Wednesday, 27 November 2019

How To Write A Perfect Review

Do You Want To Know The Secret Tips & Tricks of Awesome Review Writing? Watch The Video at Yoututbe Channel Official Shoby And Check This Exclusive Video Session by Acclaimed Critic Shahbaz Ali Naqvi (Shoby), Where He Tells The Art of Review Writing.

Click Here To Watch Video On Youtube

Friday, 22 November 2019

Best Poetry and Prose Android App

Best Poetry and Prose Android App


Hello Friends, This is Shahbaz Ali Naqvi (Shoby) and I am here to share an awesome news. The thing is, I have found an amazing Android Application (i.e. POETS). Here are some of the highlights of the application:


  • Read Poetry of Legendary Old and New Poets in different languages
  • Read Prose of Great Writers in different languages
  • Get Yourself Registered and Publish Your Own Poetry and Prose


Click The Below Link and Watch Complete Details of The Application in The Video at My Youtube Channel (Official Shoby)

Click The Link For Complete Details at Youtube

Sunday, 17 November 2019

Sunday, 3 November 2019

Soul Healers... You Are Your Own Power

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین
تمام تعریفیں صرف اللہ پاک کے لئے ہیں اور درود و سلام ہے حضرت محمد ص پہ اور آپ ص کی آلِ پاک ع پر

زندگی۔۔۔ ہمیشہ سے یہی کہتا آیا ہوں کہ ہم سب اپنے اپنے حصے کی جنت میں اپنا اپنا وقت گزار رہے ہیں۔۔۔ یہ الگ بات کہ دوسروں کی جنتیں دیکھ کر ہم اپنی جنت میں موجود تمام نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔۔۔ جلد باز اور ناشکرے تو ہم ہیں ہی، بس اسی چیز کو endorse کرتے ہوئے ہم دوسروں کی جنتوں کا موازنہ اپنی جنت سے کرتے ہوئے خود اپنی جنت کو دوزخ بنا دیتے ہیں۔۔۔ اور وہیں سے ابتداء ہوتی ہے نقصان کی۔۔۔ نقصان جو میرا، آپ کا اور ہم سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کا بلکہ مجموعی طور پہ اس معاشرے کا ہوتا ہے۔۔۔

افسوس یہ ہے کہ اس سارے المیہ میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جو ہمیں culprit یا victim ہوتے ہوئے بھی سننا پسند نہیں کرتا۔۔۔ زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں لوگ پڑھنے سے زیادہ لکھنے اور سننے سے زیادہ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ نتیجہ وہی، نقصان اور نقصان کے نتیجے میں تباہی۔۔۔

کیا ہی اچھا ہو نا کہ ہمیں کوئی ایسا مل جائے جو ہمیں جانتا نہ ہو۔۔۔ جسے ہمارے کسی action سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔۔۔ جو صرف neutral ہو کر، صرف ایک انسان ہونے کے ناطے ہمیں سنے۔۔۔ اچھا برا، نیک بد کچھ بھی pre assume کئے بغیر صرف اس لئے سنے کیونکہ ہمیں سننے والا کوئی نہیں۔۔۔ اور یہی سننا اور سننے کے بعد بالکل غیر جانبدار رہتے ہوئے ہمیں وہ suggest کرنا جو ہمارے لئے ضروری ہو، ہمارے لئے مثبت ہو اور ہمارے لئے مسائل، مشکلات اور ہریشانیوں سے نکلنے کا آسان راستہ ہو۔۔۔

افراتفری اور خود پسندی کے اس دور میں اب بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنا نہیں سوچتے اور ایسے لوگ یقیناً حبس زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکے ہوتا ہیں۔۔۔ چند دن پہلے ہیلرز کی ایک ٹیم ممبر نے مجھے اپنے ایک پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا جو الحمد للہ اب مکمل ہو چکا ہے اور اب فنکشنل ہے۔۔۔

ہلیرز زندگی کی مختلف domains سے professionals کی ٹیم کے ساتھ صرف آپ کو سنیں گے۔۔۔ جہاں تک ممکن ہوا آپ کے مسائل کے حل آپ کو guide کئے جائیں گے۔۔۔ یہاں آپ کو judge نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف listen suggest and guide کریں گے۔۔۔ مجھے یہ پراجیکٹ بہت پسند آیا ہے۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے زاتی اغراض و مقاصد نہیں ہیں۔۔۔ ان کا واحد مقصد آپ کی خدمت کرنا ہے۔۔۔ کسی بھی طرح آپ کے دل اور دماغ کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔۔۔ ان کے ہراجیکٹ کی تفصیلات آپ کو ان کے آفیشل پیج سے مل جائیں گی۔۔۔

میں ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہوں

https://www.facebook.com/Soul-Healers-102323461212855/

شہباز علی نقوی

Sunday, 6 October 2019

In Conversation With Ishwa Rana

شوبی وڈ: آپ کا تعارف؟ 
عشوا: میرا نام عشوارانا اور آئی ڈی نیم گل رعنا ہے.( یہاں یہ بات بھی بتا ہی دوں میں نے دو ناموں کا کبھی سوچا نہیں تھا مگر شروع سے آئی ڈی کا یہ نام تھا اور لوگ لکھے ہوئے سے پہچاننے لگے تو اب چینج کر بھی نہیں سکتی ...اب سبھی مجھے گل رعنا کے نام سے زیادہ جانتے ہیں.) ماسٹرز ان باٹنی ، پروفیشنلی ٹیچر ہوں. عمر تئیس سال ہے اور کوٹ ادو (سنانواں)  سے تعلق رکھتی ہوں.


شوبی وڈ: لکھنے کا آغاز کیسے اور کس سے متاثر ہو کر کیا؟.
عشوا: شروع سے کبھی سوچا نہیں تھا کہ رائٹر بننا ہے ..لیکن اسکول میں چھوٹی موٹی خبریں اور نظمیں لکھتی رہتی تھی.پھر ایک لمبے عرصے بعد  2016 میں  شہدائے پشاور پہ ایک نثری نظم لکھی اور اس کے بعد سے لکھنا شروع کیا. ہمارے گھر میں شروع سے بچوں کا اسلام،  روزنامہ اسلام اور خواتین کا اسلام آتے تھے.انہیں پڑھ پڑھ کے لکھنے کا شوق اور رائٹرز کے بارے میں تجسس پیدا ہوا .

شوبی وڈ: آپ کے لئے "لکھنا" کیا ہے؟.
عشوا: میرے لیے لکھنا دل و دماغ میں امڈنے والے خیالات و احساسات کو زبان دینے کا نام ہے.میں نے کبھی نہیں سوچا کہ کہانی کیسے لکھنی ہے،  یا افسانہ،  کالم  .....بس جو مجھے محسوس ہوتا ہے.وہی میرے لیے "لکھنے " کے معنی میں آتا ہے.

شوبی وڈ: کیا آپ صرف نثر ہی لکھتی ہیں یا شاعری بھی کرتی ہیں؟
عشوا: ناکام شاعرہ کہہ سکتے ہیں .قافیہ ردیف اوزان سے کہیں دور اپنی دھن میں کہی نظم شاعری میں شامل ہوتی ہے تو پھر میں شاعرہ ہوں...🙂 🙂  نہیں تو صرف نثر نگار .

شوبی وڈ: آپ کی سوشل میڈیا پوسٹس سے یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک ینس مکھ اور شرارتی سی لڑکی ہیں۔۔۔ کیا آپ اپنی حقیقی زندگی میں ایسی ہی ہیں؟
عشوا: بالکل ...101% ....میری پوسٹس میری تخلیق سے زیادہ میری سرگرمیوں کی آپ بیتی ہے...جن کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے.

شوبی وڈ: سوشل میڈیا پہ اتنی ہنس مکھ اور قلم میں سنجیدگی اور جذبات کا طوفان۔۔۔ یہ کیسے بیلنس کرتی ہیں؟
عشوا: دیکھیے زندگی آپ کو جتنے رنگ حقیقت میں دیتی ہے اس سے کہیں زیادہ آپ کو خود بھرنے پڑتے ہیں.
کسی بھی فریم کا فرنٹ جتنا پیارا ہوتا ہے ...دوسری طرف اتنا ہی سادہ.  .! آپ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے. آپ اپنے احساسات اور زندگی کی سنجیدگی سے منہ نہیں موڑ سکتے...وہ ایک رخ ہے.لیکن ان سب کے باوجود آپ کو جینا ہے تو آپ کھل کے جئیں   ! ہنسیں کھلکھلائیں اور زندگی کو بتائیں ہم ابھی زندہ ہیں.🙂

شوبی وڈ: آپ شعبہ تدریس سے تعلق رکھتی ہیں اور استاد ہونے کے ناطے یقیناً کافی مصروف ہوتی ہوں گی۔۔۔ اپنی مصروفیات میں سے سوشل میڈیا اور لکھنے کے لئے وقت کیسے نکالتی ہیں؟
عشوا: ٹیچنگ بذات خود ایک ایسا پروسس ہے جہاں آپ کو نہ صرف سیکھنا ہوتا ہے بلکہ بیک وقت سکھانا بھی ہوتا ہے. مجھے لگتا ہے ٹیچنگ جیسے پروفیشن میں تخلیق کا عمل زیادہ ہے. ہر روز اک نیا تجربہ،   اک نئی کہانی ہے اور اگر آپ یہ سب سوچنے کا وقت نکال سکتے ہیں تو لکھنے کا بھی...میں نے ایسے بھی کئی تحریریں لکھی ہے کہ میں اسکول کے گیٹ پہ پہنچتی ہوں اور میری تحریر کی آخری لائن ہوتی ہے. وقت نکالنے میں موبائل نے میرا بڑا ساتھ دیا ہے 🙂 

شوبی وڈ: ہمارے آن لائن ڈیجیٹل میگزین "قرطاس" پہ شائع ہونے والے ناول "علیزے سکندر اور محبت" کے حوالے سے کچھ بتائیں کہ اس کا خیال کیسے آیا؟
عشوا: یہ ایک لمبی کہانی ہے. ناول کے اختتام پہ میں ضرور شیئر کروں گی..فی الوقت اتنا سمجھیے کہ زندگی میں جب بھی پہلا ناول لکھنے کا سوچا وہ یہی کردار،  یہی کہانی تھی ...یہ مجھے لکھنی ہی تھی.

شوبی وڈ: یہ آپ کا پہلا سلسلے وار ناول ہے۔۔۔ یہ طویل سفر کیسا رہا اور اب جبکہ یہ سفر ختم ہونے والا ہے تو کیا محسوس ہر رہی ہیں؟؟؟
عشوا: یہ ناول لکھتے وقت ہی طے کر لیا تھا کہ یہ کوئی مورل سٹوری نہیں ہے .یہ صرف احساسات اور محبت کی کہانی ہے.ٹوٹنے اور جڑنے کے اس عمل میں خود کو بکھرنے سے بچاتے ہوئے سمیٹنے کی کوشش کی کہانی .....! اس کا کوئی کریکٹر آپ کے لیے مشعل راہ تو نہیں لیکن آپ سے جڑا ضرور ہے..کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح... !
میرے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے کہ میں اس کا اختتام کیسے کروں ...لیکن ہر چیز اینڈ نہیں ہوتی..ہو سکتا ہے آج آپ اسے الفاظ کی صورت پڑھتے ہیں ...کل کو آپ کے احساسات میں شامل ہو جائے  ...اور یہی اک نیا آغاز ہو.

شوبی وڈ: اس پورے ناول میں آپ کا سب سے پسندیدہ منظر یا کردار کون سا ہے؟ کس سین یا کردار نے آپ کو لکھتے ہوئے جذباتی کیا؟
عشوا: لاسٹ ایپی سوڈ ....! جو ابھی مکمل ہونی ہے... رائٹرز صرف واہ واہ یا تعریفوں کی بارش کے لیے اچھا نہیں لکھتے.. وہ رائٹر ہوتے ہی نہیں....! لیکن اتنا تو ہے کہ جو چیز آپ کے دل پہ اثر کر رہی ہے وہ پہلے ہمارے دل پہ لگتی ہے...ہم ایک ایسے پروسس سے گزرتے ہیں جہاں ہر دکھ خوشی محسوس کر کے ہمیں آپ تک پہنچانی ہوتی ہے.

شوبی وڈ: آپ کا شوبی وڈ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟؟؟ کیا مستقبل میں بھی ہمارے ساتھ کام کرنا پسند کریں گی؟؟؟
عشوا: یہ ناول لکھنے سے بھی پہلے میرے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ میں اسے مکمل کیسے کروں گی...میری مصروفیات  میں اتنی لمبی کہانی ایک ساتھ مکمل کرنے کا زرا وقت نہیں تھا.میرے لیے شوبی وڈ کے لیے قسط وار ناول لکھنا  واقعی میں ایک کمفرٹ زون ثابت ہوا ہے..جہاں آپ سب کو اتنی شکایت تھی کہ میں جلدی قسط نہیں دیتی،  وہیں یہ میرے لی سب سے بڑی راحت تھی کہ مجھ سے جلدی قسط مانگی بھی نہیں جاتی 🙂  ہر اس کمٹنٹ کو جو شوبی  وڈ کی جانب سے ہوئی پورا کرنے کے لیے بہت شکریہ....!
مجھے آن لائن لکھنا اور میگزینز میں لکھنا دونوں ہی برابر لگتے ہیں کہ اگر آپ کمرشل رائٹر نہیں ہیں تو آپ کا کام اپنی کہانیاں پیش کرنا ہے اور وہ آپ جہاں بھی پیش کریں ...لوگوں تک پہنچنی چاہیے بس یہی اہم ہے...انشاءاللہ ضرور لکھوں گی.

شوبی وڈ: آپ کے پسندیدہ نثرنگار/ شاعر کون سے ہیں اور پسندیدگی کی وجہ کیا ہے؟؟؟
عشوا: سچ بتاؤں تو کسی بھی رائٹر کی وہ کہانی ،جملہ یاشاعر کا شعر جو مجھے اپنے سحر میں جکڑ لے...میرے لیے پسندیدگی کی وجہ بن جاتا ہے....ویسے میرا مطالعہ انتہائی کم ہے ...مگر جتنا پڑھا ہے مجھے اشفاق احمد کی بے ساختگی اورمستنصر حسین صاحب کی جملوں میں چھپی گہرائی بہت پسند آئی.

شوبی وڈ: کیا آپ اس دور میں لکھے جانے والے اردو ادب سے مطمئن ہیں یا نہیں۔۔۔ وجہ بھی بتائیے۔۔۔
عشوا: متفق ہوں بھی،  اور نہیں بھی..!
معیار کا ایک لیول ہوتا ہے،  جو اس لیول کے مطابق کام کر رہا ہے وہ اچھا کام کر رہا ہے...!
اگر سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو میں ہر کسی کے لکھنے سے مطمئن نہیں.رائٹرز بنائے نہیں جاتے،  یہ ایک صلاحیت ہے جو نکھر تو سکتی ہے مگر پیدا نہیں کی جا سکتی..ہر پوسٹ لکھنے والا رائٹر نہیں ہے...ہر تبصرہ کرنے والا ریڈر ہو سکتا ہے ...قاری نہیں ...قاری اور لکھاری کی میرے خیال سے ایک بہتر تعریف وجود میں آنی چاہیے جس سے خود کا  موازنہ کیا جا سکے کہ آیا ہم اس پہ پورا اترتے بھی ہیں کہ نہیں.

شوبی وڈ: کیا آپ کے خیال میں آج اچھے لکھاری کی کمی ہے یا اچھے قاری کی؟
عشوا: ایک اچھے رائٹر کی پہچان اچھے ریڈر کی وجہ سے ہوتی ہے...ووٹنگ کا یہ فیصلہ سیدھا ریڈر کے کورٹ میں جاتا ہے لیکن اس کے لیے پڑھنے والے کو بہترین قاری ہونا چاہیے.

شوبی وڈ: آپ کی اب تک کتنی کہانیاں شائع ہو چکی ہیں اور ان میں سے آپ کی پسندیدہ کہانی کون سی ہیں؟
عشوا: میں اپنی وال پہ بہت زیادہ لکھ چکی ہوں ..شاید حد سے زیادہ ...آن لائن فورمز،  ویب سائٹ اور میگزینز میں کل ملا کے تقریبا ڈیڑھ سو سے اوپر ہی ہو چکی ہوں گیں.
مجھے محبت پہ لکھنا بہت پسند ہے .... مجھے اپنے لکھے مائکروف زیادہ اچھے لگتے ہیں.

شوبی وڈ: آپ کا ڈریم پراجیکٹ کیا ہے؟
عشوا: لکھنے کے حوالے سے میں ایک بہترین ڈرامہ ، فلم اور ناول لکھنا چاہتی ہوں جو انشاءاللہ  ضرور لکھنا ہے.

شوبی وڈ: علیزے سکندر اور محبت کے بعد کیا لکھنے کا ارادہ ہے؟
عشوا: فورا بعد ایک ناولٹ لکھنا ہے،  جو چھ سات اقساط پہ مشتمل ہو سکتا ہے...علیزے، سکندر سے بھی پہلے میں نے ایک ناول "  اک خواب پرایا " لکھنا شروع کیا تھا ....وہی اگلا ناول ہو سکتا ہے.

شوبی وڈ: کس قسم کی کہانیاں لکھنے اور پڑھنے کا شوق ہے؟
عشوا: فکشن سٹوریز ..!مجھے نہیں علم کہ لوگ فکشن کو کتنا مانتے ہیں اور ادب میں کس نظر سے دیکھتے ہیں مگر مجھے مائکروف لکھنا،  پڑھنا پسند ہیں.

شوبی وڈ: جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں انہیں کیا پیغام دیں گی؟
عشوا: سیکھنے کے لیے صرف پیشن اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے.. فوکس رکھیے کہ آپ کیا کرنا اور لکھنا چاہتے ہیں ؟ کس صنف پہ عبور حاصل ہے یا پسند ہے اور کس چیز کا حصہ بننا ہے.جتنا مقصد واضح ہو گا اتنی ہی آسانی ہو گی.

شوبی وڈ: آپ کے نزدیک شوبی وڈ کیسا پلیٹ فارم ہے۔۔۔ ہمارے پیج ممبرز کے لئے کوئی پیغام؟
عشوا: کوئی بھی کام چاہے وہ جس لیول کا ہو،  وہ اچھا ہے تو اچھا کہلائے گا...چیزوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور اچھی چیز کی تعریف کرنا آپ کا حق ہے..ریٹنگز،  فالورز،  ویوز کے چکر سے باہر نکلیے اور اپنی رائے دینا سیکھیں...اچھے کام کا حق ہے کہ اس پہ بات کی جائے. میں نے جب شوبی وڈ پیج پہ پوسٹس دیکھیں تو شہباز بھائی سے پوچھا تھا کہ یہاں اتنے کمنٹس نہیں ہوتے ....!
لیکن ماسٹر  سٹوری  ٹیلر مقابلے کی اناوئسمنٹ سے رزلٹ تک ... یہ تعداد بہت زیادہ تھی.. اس کا مطلب آپ دیکھتے ہیں،  پڑھتے ہیں،  لیکن ایپریشیٹ نہیں کرتے 🙂 !
اس پلیٹ فارم کی یہ بات بہت  اچھی ہے ہر چیز  کو اس کے پورے پروٹوکول کے ساتھ لے کے چلا  جاتا ہے ... اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ اپنے مفاد سے ہٹ کے دوسروں کے کام کو عزت دو...! مجھے ایسا لگتا ہے شہباز علی نقوی صاحب کو اس کام کو کسی میگزین یا اس سے بھی بڑے لیول پہ پیش کرنا چاہیے..کیونکہ وہ کر سکتے ہیں.
بہت شکریہ

Wednesday, 7 August 2019

Sunday, 10 March 2019

Aurat March... Freedom or Free-Doom- Article by Shoby

Aurat March... Freedom or Free-Doom

خواتین کو جو عزت و وقار اسلام نے دیا، اس کی مثال کسی اور مذہب یا معاشرے میں نہیں ملتی... میں نے گزشتہ بلاگ میں بھی یہ بات واضح کی تھی کہ اگر دنیا نے عورت کی عزت کی معراج دیکھنی ہے تو میرے پاک رسول ص کا اپنی لاڈلی صاحبزادی کے لئے احتراماً کھڑے ہو کر استقبال کرنے ہر ہی غور کر لیں...

آج کی عورت آزادی اور حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے... جبکہ اسلام نے چودہ صدیاں قبل عورت کو احترام کے ساتھ جتنی آزادی دی، آج کا نام نہاد لبرل طبقہ سوچ بھی نہیں سکتا... دین شناسی کی بات ہو یا دنیاداری میں معاملہ فہمی کی، سیدہ فاطمہ زہرا (س)، سیدہ خدیجتہ الکبریٰ (س)، سیدہ زینب عالیہ (س) تاریخِ اسلام میں ایسی لازوال ہستیاں موجود ہیں جو دین و دنیا کو ایک ساتھ بہترین انداز میں لے کر چلیں...

اب میں آتا ہوں حالیہ یومِ خواتین کے موقع پر ہونے والے عورت مارچ کی... میں اس موضوع پہ بات نہیں کرنا چاہتے تھا کیونکہ یہ میرے نزدیک اتنا اہم نہیں ہے کہ اس پہ بات کر کے وقت ضائع کیا جائے... لیکن ابھی ابھی ایک وڈیو نظر نہیں سے گزری جس میں ایک بزرگ یہ فرماتے ہوئے نظر آئے کہ یہ سب کچھ نکاح کی وجہ سے ہو رہا ہے اور نکاح ختم ہونا چاہیے... استغفار

میں عورت کی آزادی اور مردوں کے شانہ بشانہ ایک ساتھ ملک و قوم کی بہتری اور فلاح کے لئے کام کرنے کو غلط نہیں کہتا... میرا ماننا ہے کہ اس دور میں خواتین کو برابر کے حقوق ملنے چاہیں اور اس سلسلے میں ہماری کئی خواتین بہت پروقار طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کئے... مگر جس طرح کے نعرے اور جو لغویات عورت مارچ میں موجود کئی نام نہاد لبرلز نے اٹھائے ہوئے تھے وہ عورت کو آزاد نہیں بلکہ اخلاقی بستی کی انتہاء پہ جھونکنے کے مطالبات تھے...

نکاح معاشرے کو متوازن رکھتا ہے... جن ممالک میں خاندانی اقدار اور روایات ختم ہو رہی ہیں ان سے پوچھیں... کوئی اگر مذہب اور اسلامی معاشرے کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف بولنے اور عمل کرنے کو ہی آزادی سمجھتا ہے تو اسے علم ہونا چاہیے یہ آزادی نہیں بلکہ زہنی پسماندگی ہے... شیطان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے یہ لبرل خواتین و حضرات آزادی نہیں مانگ رہے تھے بلکہ صرف اور صرف اللہ پاک کے عذاب کو دعوت دے رہے تھے...

اگر آپ خواتین کے حقوق کی بات کرنا چاہیں تو آپ کے پاس مسائل پہ بات کرنے اور حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے موضوعات کی کمی نہیں ہے... خواتین کے لئے مساوی تعلیمی سہولیات، نوکری کے وسائل، ونی اور کارو کاری، غیرت کے نام پہ قتل، خواتین کو وراثت میں جائز حق، گھروں میں کام کرنے والی بچیوں اور خواتین پہ ظلم و تشدد، زیادتی اور جانے کتنے ہی مسائل ہیں جو واقعی حل طلب ہیں اور ان پہ ہر فورم پہ بات کرنا میں وقت کی اہم ترین ضرورت سمجھتا ہوں مگر جن باتوں کی آزادی خواتین مارچ میں موجود لوگ چاہ رہے تھے وہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے...

میں ایک مرتبہ پھر یہی کہنا چاہوں گا کہ ہمارے تمام مسائل کی وجہ دینِ محمدی (ص) سے دوری ہے... اگر ہم اپنے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں تو اب بھی وقت ہے اسلام نے رشتہ پکا کر لیں... یقین مانیے آپ کو عزت، احترام، محبت، وقار اور وہ تمام حقوق بناء مانگے بناء کوئی جدوجہد کئے خودبخود مل جائیں گے... اس دین میں عورت کو ماں ہونے کی صورت می  قدموں میں جنت، بیٹی ہونے کی صورت میں باپ کے لئے رحمت اور زوجہ ہونے کی صورت میں شوہر کے نصف ایمان کی وارث قرار دیا ہے... جب تک عورت گھر میں موجود اپنے گھریلو امور انجام دے رہی ہوتی ہے، اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہوتی ہے، شوہر کے مال اور اپنی اور شوہر کی عزت و آبرو کی حفاظت کر رہی ہوتی ہے تو وہ اللہ پاک کی رحمت کے سائے میں رہتی ہے...

میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش ہے کہ اسلام سے اپنا رابطہ مضبوط کریں... اسلامی تاریخ کی عظیم ترین ہستیوں کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں... اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حجاب کو فروغ دیں... آپ ہمارا فخر ہیں... اپنا وقار قائم اور بلند رکھیں اور آزادی کے کھوکھکے نعروں سے متاثر ہو کر کسی غیر کی بات پہ دھیان نہ دیں...

Article Written by #ShahbazAliNaqvi #Shoby

Friday, 8 March 2019

International Women Day...

#InternationalWomenDay

آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے... اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی معاشرے میں عزت و وقار بلند کرنا اور لوگوں کے شعور و آگہی میں اضافہ ہے...

اسلام نے خواتین کو بہت عزت و مقام دیا ہے... عورت جب ماں ہے تو اس کے قدموں تلے اولاد کی جنت، بیوی ہے تو شوہر کے نصف ایمان کی وارث اور بیٹی ہے تو اپنے والد کے لئے رحمت... میں اس موقع پر خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کائنات میں عالمین میں تمام خواتین کی سردار سیدہ فاطمہ زہرا (س) بنتِ محمد مصطفیٰ رسول اللہ (ص) کو... آپ کی شان آپ کے فضائل یقیناً ہمارے علم و عقل سے بہت بلند ہیں... یہیں سے اندازہ لگا لیجیے کہ آپ کے قدموں میں جن بچوں کی جنت ہے وہ خود جنت کے سردار ہیں... آپ اپنے شوہر کے نصف ایمان کی وارث اور وہ بھی وہ عظیم ہستی جو خود کُل کا کُل ایمان ہیں... آپ اپنے والدِ محترم کے لئے رحمت اور والدِ محترم بھی وہ عظیم ترین ہستی جو خود رحمت اللعالمین ہیں... سبحان اللہ... اس میں کوئی شک نہیں کہ بی بی پاک کی حیاتِ طیبہ میں ہم سب خصوصاً ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کے لئے بہترین نمانہ عمل موجود ہے...

آج کی خواتین نا صرف گھریلو امور نبٹاتی ہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبہ جات میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں... ملک و قوم کی ترقی کے لئے خواتین کی تعلیم اور عملی طور پہ مختلف شعبوں میں ان کی شمولیت بہت ضروری ہے... پڑھی لکھی عورت پڑھا لکھا معاشرہ بناتی ہے...

میں اس موقع پر اپنی پوری ٹیم کو بھی شاباش دینا چاہتا ہوں... میری ٹیم میں موجود ہر ایک ممبر اپنی زمہ داریوں کو سمجھتا ہے... ہم بناء کسی زاتی غرض و فائدہ کے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک معیاری پلیٹ فارم مہیاء کرتے ہیں... مجھے اپنی ٹیم پہ فخر ہے جس طرح یہ تمام ممبرز اپنی زاتی مصروفیات سے وقت نکال کر آپ سب کے لئے کوششیں کرتے ہیں...

آج کے دن صرف یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ اپنا وقار بلند رکھیے... آپ کا وقار بلند ہے تو قوم و ملت کا وقار بلند ہے... یاد رکھیے جب تک ہماری خواتین کے سروں پہ حجاب ہے ہمارے سر فخر سے بلند ہیں اور ہم سر اٹھا کر چلتے ہیں...

اللہ پاک آپ سب کو دنیا و آخرت کے ہر میدان میں کامیابی عطا فرمائیں الہی آمین

#ShahbazAliNaqvi #Shoby

Sunday, 10 February 2019

My Team in PSL 4... Special Blog by Shoby

So the time of the year has arrived, when everyone will be glued to the screens to witness the greatest extravaganza of cricket in Pakistan. Season four of Pakistan Super League (PSL) is going to be kicked off from Feb 14, 2019 and the most exciting thing this season is that this time almost 8 matches will be played in Pakistan. I really wish, one day we can see the complete season being played in Pakistan (Insha ALLAH).

Lets talk about my most favourite team or the team I am going to support in PSL. No points on guessing that I am not at all going to change my team this season as well... From the very first season, no matter what the results are, I have always been supporting whole heartedly only one team...

The team representing one of the coolest capital of the planet The Coolest Islamabad United. Well it really needs no reason to have one of these six competing teams as your favourite. But still let me sjare you my top two reasons why I support IU. One, it belongs to my city. Secondly, bhai is ke owner bhi to apney NAQVIs hi hain na (ha ha ha :-) But one thing that didnt go well with me this season is, Misbah ul Haq is not playing from IU. He has joined Peshawar Zalmi franchise. Therefore, IU will be lead by Muhammad Sami.

As a matter of the fact, which ever team wins, ultimately it is about the victory of cricket and one who will emerge as victorious will be no one else but our beloved Pakistan.

So I am all enthralled and excited and really cant wait to see the hits bringing smashing out of the park maximums and getting the bails & wickets dislodged by some real time pace bowling. Cricket has the tendency to join us together and we should use this event as a channel to be united.

My message, support your team with full zeast but dont bother who wins or loose because at the end of the day, it is just about all of us. It is about Pakistan. Wishing all the teams and players a very good luck... May the best team wins...

Saturday, 2 February 2019

AMKK- My Next Poetry Book...

AMKK- My Next Poetry Book...

MBMST was a dream and it went on to be a huge success... It managed to get quite a good volume of fame in the eyes of my readers in public and at the same time, it got some immense praise & appreciation from the biggies of the field... Well known poets of our era including Fakhira Batool Naqvi, Wafa Chishti, Naseem e Sehar, Col. Maqbool Hussain, Zain Shakeel and many others gave me some incredible feedback after reading the book...

To tell you honestly, right after the honeymoon period of MBMST was over (exactly three months of its launch), people started asking me about my next book... I was literally circled with queries like when I am going to pen my next book and I was always like, Sabar kero yaar... Abhi MBMST enjoy kerney do mujhey... But after almost three years, I made myself ready for the second book...

People are now asking, what kept me away from the next book for three long years... My reasons are quite simple... I wanted my readers to get comfortable with my style of writing and having said this, I dont want to give them the same old story in the same old style everytime... I am not a stereotypical poet and there are many hallmarks of traditional poets that are NOT present in me whatsoever...

I dont attend a lot of mushayaras, as I dont want the same ten, twenty poets to listen to my stuff and I dont have the aptitude & patience of digesting the poetry coming from their side too :-) (I know I am sounding a bit rude but this is what I really am)...

I want my readers to have something new everytime I write... This is the very reason why I am now a days away from writing novel/ afsana/ films reviews and blogging... Plus I was busy with other projects esp The Master Storyteller... Judging itself is a full time job and I dont want to compromise on the quality I give to the work I am associated with...

In short, there is a long list of things that almost intrigued me to stay calm and wait for the next time... Alhamdo LILLAH the right part of time has now arrived and yes I am done with the first draft of my next book.

Insha ALLAH when you will get to read my next book #AMKK (the title of which I am going to announce on Feb 14, 2019), you will defintely observe a change in the overall feel of the book... You will see new topics, new subject matters and new untouched things & phenomenon... Nevertheless I must say, AMKK is the next episode of the very same story which was narrated by me in MBMST...

Hope you are enjoying these waiting moments...

Stay Blessed and Happy Waiting...

#ShahbazAliNaqvi #Shoby

Tuesday, 8 January 2019

Simba- Movie Review by Shoby

Simba- Movie Review by Shoby


3.5 Hearts Out of 5

Fates of recent flops with some big names of industry have proved quite categorically that gone are the days when you could create a brainless entertainer and cine-goers would have jumped in joy. To be honest, I was not confident about Simba in the first place and went to the near theater with simply no expectations at all. Reason being quite simple, I am not at all a fan of Rohit Shetty's cinema but what came to me as a surprise was an exceptional action drama loaded with some amazing music & a bit of romance sprinkled over it.

Don't expect some extraordinary stuff here, as far as the story is concerned. Simba, an orphan with a lion's heart, has chosen to become a policeman, as the only thing he wants is power and he has learned in his childhood that power comes with the uniform. However, his life changes from a notorious policeman to a revenge seeking officer on duty, as he is appointed as in-charge in a police station in Goa. Rest should be watched in the movie, as I don't want to be spoiler.

Simba is all about a tightly written script, translated into a gripping screenplay with some awesome acting prowess shown by some seasonal actors. I would not be wrong, if I say, Simba is all about Ranveer Singh. Ranveer shines and simply bursts out of the 70 mm screen with his energy & bravura performance. Indeed, he has come a long way in acting department and I shall give the due share of credit for this to Sir Sanjay Leela Bhansali, whose assignments (Raam Leela, Bajirao Mastani & Padmaavat) has taught Ranveer, how to bring the best out of him. Sara Ali Khan looks beautiful & decent in the short role, but I feel, she could have done much better in acting especially she struggles in the romance department. Sonu SoodAsutosh Rana, Siddhartha Yaadav and the supporting cast did exceptionally well. Cameos of Ajay Devgan as Singham and Akshay Kumar is a pleasant surprise.

Music by a bunch of musicians (Tanishk Bachi, Lijo George, DJ Chetas and S Thaman) with lyrics of (Shabbir Ahmed, Rashmi Virag, Kumaar & Kunal Verma) is appealing and goes smoothly with the story. Track Ankh Marey is an excellent foot tapping number with cameo appearances by Team Golmaal. Tere Bin is a recreated version of Sir Nusrat Fateh Ali Khan sb's classical track. Aala Re Aala & Simba theme plays in the background just enhances the overall flavor.

As in the early products of Rohit Shetty, this time yet again you get to see some stunning visuals, courtesy Jomon T. John's eye catching cinematography. Editing is also crisp. Action scenes have been choreographed nicely and they have a signature of Rohit Shetty's action.

Dialogues are just about perfect. Some scenes in the movie leaves with you even after you leave the theater. The coming of age from notorious happy go lucky mischievous Policeman to reasonable revengeful officer on duty is a treat to watch. See the scenes where Ranveer asks the old man to slap him, as he was never slapped in childhood by his father as he was orphan. To me, it was perhaps the best scene of the movie.

Overall, I believe, Rohit Shetty has learned so much from his mistakes in last ventures and no doubt, Simba is his best work till date.My verdict, Simba is a winner in every department. Go, watch it just for an electrifying performance by Ranveer.

PS: Don't Forget To Provie Your Valuable Feedback in Below Comment Box